عمومی ہدایات برائے مربیان

عمومی ہدایات برائے مربیان کرام و مبلغین سلسلہ

  • ’’میں نے جو مبلغین کی میٹنگز میں مشترک ہدایات دی ہیں وہ تمام مبلغین کو بھجوائی جائیں کہ وہ ان ہدایات کو پڑھیں  اور پھر بتائیں کہ ہم نے پڑھ لی ہیں ‘‘نیز حضورانورنے ارشادفرمایا کہ یہ ہدایات اصلاح وارشاد کو بھی بھجوا دی جائیں۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عمومی ہدایات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
برائے مبلغین کرام و امراء جماعت ہائے احمدیہ
فرمودہ دوران اجلاس ہائے مبلغین منعقدہ برموقع جلسہ سالانہ برطانیہ
2007ء تا2014ء

  • جہاں جہاں مرکزی مبلغین ہیں وہاں مرکزی لائبریریاں قائم کریں۔
  • ذیلی تنظیموں کے سپرد جو کام کئے گئے ہیں، ان کو پوری طرح involveکرنا چاہئے اور ان سے کہیں کہ اپنے رپورٹ میں ذکر کیا کریں۔ مشنریز کی لائبریریاں مکمل ہونی چاہئیں۔
  • ہر مشن ہاؤس/مسجد میں ڈش انٹینا ہونا چاہئے۔ خطبہ جمعہ سنوانے کا انتظام ہو۔ جو اُردو نہیں سمجھتے، انہیں مقامی زبان میں ترجمہ جلد سنوایا جائے۔
  • مختلف ممالک میں جماعتوں میں ایسے افسران سے آپ کا براہ راست رابطہ رہتا ہے۔ ان سے تعلقات بڑھانے کے لئے کام کریں۔ اپنے امراء سے کہیں کہ اپنے سیکریٹریان اُمور خارجہ کو Active کریں کہ وہ ان لوگوں سے تعلقات بڑھائیں۔ ان کو جماعتی تعلیم کے بارہ میں جو مواد مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ مشنریز کا کام ہے مہیا کریں۔
  • تقویٰ اپنے اندر بھی پیدا کریں اور ممبران جماعت میں بھی۔ کسی کی تعداد بڑھا کے آپ ظاہری خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں لیکن یہ خوشنودی اس دنیا میں رہ جانی ہے۔ اس لئے اب جو بیعتیں ہونی ہیں،وہ پکی ہوں۔ صحیح ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام ہر ایک تک پہنچانے کے لئے کوشش ہونی چاہئے۔محنت بھی کریں۔ ڈائریاں لکھیں۔ جس وقت بھی آنکھ کھلتی ہے جاگنے کا وقت مقرر کریں۔ نوافل کی عادت ہر ایک کو ہونی چاہئے۔اس وقت سے لے کر رات سونے تک کے جو کام بھی آپ کے ذاتی بھی ہیں ، اس کی بھی ڈائری لکھنی چاہئے تا کہ پتہ لگے کہ کتنا وقت عبادت میں گزارا ہے۔ کتنا جماعتی کاموں میں گزرا ہے اور کتنا ذاتی کاموں میں گزرا ہے۔ دن کے چوبیس گھنٹوں کا صحیح مصرف ہوا بھی ہے یا نہیں؟ جب تک یہ جائزے آپ خود اپنے ذاتی طور پر نہیں لیں گے اور گہرائی میں جا کر نہیں لیں گے، خود اپنے آپ کو Assessنہیں کریں گے، اپنے نفس کو دھوکہ دیتے رہیں گے کہ ہم کام کر رہے ہیں۔ جب تک رزلٹ سامنے نہیں آئے گا، اس وقت تک آپ کی ترقی کی سکیم جو ہے پروگرام وہ پوری طرح ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ باقی مشنریز کو بھی بتائیں(یہ باتیں)۔ اصل مقصد اس وقت ہی حاصل ہو سکتا ہے جب Self-Assessmentہوتی ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر وقت کیا ہے۔ اس کی رضا کی خاطر ہی ہم نے کام کرنا ہے تو کس طرح کرنا ۔ وہ پلاننگ جو ہو گی اور پھر دعاؤں کے ساتھ ہو گی ، وہی با مقصد ہو گی اور انشاء اللہ کامیابیاں بھی حاصل ہوں گی اور اپنے نفس کی اصلاح بھی ہو گی۔
  • نظام وصیت میں50%چندہ دہندگان کو شامل کرنے کا ٹارگٹ پورا کریں۔ بجٹ کی تشخیص ہونی چاہئے۔
  • ہر چوتھا خطبہ نمازوں کی ادائیگی پر ہو۔
  • ہر چھٹا یا ساتواں خطبہ مالی قربانی پر ہو۔ یہ احساس پیدا کریں کہ یہ ٹیکس نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے مالی قربانی بھی ایک ضروری ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نمازوں کے ساتھ اس کا حکم دیا ہوا ہے۔
  • ہر ملک میں سال میں کم از کم ایک دفعہ مرکزی مبلغین کا اجلاس امیر ملک کی صدارت میں ہو، جس میں جماعت کے تعلیم ، تربیت اور تبلیغ کے پروگراموں کے آگے بڑھانے کے متعلق مشورہ ہو۔ اسی طرح علاقائی مبلغین کے زیر صدارت مبلغین علاقہ کے اجلاسات حسب ضرورت منعقد ہوں جن میں خلیفۂ وقت اور مرکز کی طرف سے آمدہ ہدایات کو اچھی طرح ذہن نشین کروایا جائے۔

(2007ء)

  • نو مبائعین کو خلافت کے جلسوں میں لائیں۔
  • خلافت کے متعلق مقررہ کتب کے امتحانات کے متعلق فرمایا:
  • جنہوں نے ابھی تک امتحانات نہیں دیئے، وہاں کم از کم 10%شامل ہوں۔
  • بڑی کتب کا Disposalاس طرح کر سکتے ہیں کہ

1۔ قیمت کم کر کے،

 2۔مفت تقسیم کر دیں مثلاً Revelation, Rationality

3۔ سب جماعتوں میں بک ڈپو قائم کیے جائیں

  • ملکی سطح پر جماعتوں میں مرکزی لائبیریریاں قائم ہوں۔
  • جماعتوں میں جہاں جہاں مربیان ہیں ،وہاں لائبریری قائم ہو۔
  • کتب سب نے خریدنی ہیں۔قیمت چاہے قسطوں میں ہی ادا کریں
  • MTAہر مسجد میں ہونا چاہیے۔ہر سال کچھ مساجد مثلاً40 یا 50 میں MTA لگ جائے۔

(2008ء)

  • نو مبائعین کو چندہ جات کے نظام میں شامل کرنے کے متعلق فرمایا:

’’At least they should pay some token‘‘

  • واقفین نو جو بڑے ہو رہے ہیں ،ان کو مختلف پیشوں میں جانے کے لئے ان کے ذہنی رجحان کے مطابق گائیڈ کریں۔سب نوٹ کر لیں۔
  • مربیان ہر مہینے اپنی رپورٹ بھجوائیں اور مختصر رپورٹ ہو۔ایک صفحہ کی اس میں فگرز ہونے چاہئیں۔

(2009ء)

  • مبلغین کے ریفیریشر کورس میں جو باتیں بتائی گئی ہیں،ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں،خاص طور پر و ہ مبلغین جو فیلڈ میں ہیں۔
  • لیف لیٹس کی تقسیم کے متعلق فرمایا:

’’احمدیت کا تعارف پہنچانے کی کوشش کی جائے۔‘‘

’’ایک سادہ سا پیغام پیار، محبت او ر peaceکا ہو۔حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے حوالہ سے ایک واقعہ ہو وہ تقسیم کیا جائے۔‘‘

  • لٹریچر کی اشاعت کے متعلق فرمایا:

120 سالوں میں ہم ہزاروں سے اوپر نہیں جا رہے۔ہمیں لاکھوں سے اوپر جانا چاہیے اپنے لٹریچر میں ۔ وکالت اشاعت جو بھی لٹریچر بھجواتی ہے اس کے بعد کوئی feedback نہیں آتا کہ لٹریچر گیا بھی ہے یا نہیں؟اور جانے کے بعد تقسیم بھی ہوا ہے یانہیں؟اور تقسیم اور فروخت ہو رہا ہے یا نہیں؟

  • جہاں جہاں ریجنل مشنری ہیں ، وہاں مرکزی لائبریری قائم ہونی چاہئے۔
  • اس میں تمام جماعتی کتب جو بھی شائع ہوں ، حضرت مسیح موعودؑ کی کتب ، تفاسیر ، کتب خلفاء سلسلہ ، تمام شائع شدہ خطبات ، دیگر علما کی کتب ، اس کے علاوہ کتب احادیث ، کتب احادیث شائع کردہ نظارت اشاعت ، نور فاؤنڈیشن وہ ساری ان میں ہونی چاہئیں ۔
  • وکیل اعلیٰ صاحب بتا رہے ہیں کہ تبشیر کی طرف سے ساری جماعتوں کو ان کتب کی تفصیلی فہرست جا چکی ہے ۔ اس کے مطابق اپنی اپنی لائبریری آرگنائز کریں ۔ یہاں (لندن) وکالت اشاعت سے منگوائیں یا قادیان سے منگوا لیں ۔
  • وکیل اعلیٰ صاحب نے عرض کی کہ جہاں لائبریر ی ہے ، وہاں کمرہ مختص کر کے لائبریری بنائی جائے ۔ اس پر فرمایا :

’’امراء ، مشنری انچارج آئندہ یہ رپورٹ پیش کریں کہ ان ان جگہوں پر لائبریری کے لئے کمرہ مختص کر دیا گیا ہے ۔ کمرے کا سائز بھی بتائیں اور یہ بھی بتائیں کہ الماریاں کتنی ہیں اور کتنی کتابیں ان میں آسکتی ہیں ۔سٹاک کے متعلق بھی رپورٹ آنی چاہئے۔‘‘

  • ’’میں جہاں دورے کرتا ہوں پہلے پیغام بھیجتا ہوں کہ وہاں یہ کتابیں ہونی چاہئیں لیکن اکثر جگہ مانگ کر کتب رکھ دیتے ہیں ۔ یہ میرا مقصد نہیں بلکہ یہ کہ مانگنے کی بجائے اپنی لائبریری قائم کریں ۔‘‘
  • بعض جگہ صرف دو دو مقامی زبان کی کتب ہیں ۔ پانچ یا سات کم از کم ہوں تا ایشو بھی کی جا سکیں اور موجود بھی رہیں ۔ باقاعدہ لائبریری والا انتظام ہو صرف ایک show case میں رکھ کر کتب کی نمائش نہیں کرنی۔‘‘

(2010ء)

  • ’’جو مربیان رپورٹس بھجواتے ہیں ، خاص طورپر افریقہ والے ، یہ جلسہ کے قریب رپورٹوں کا پلندا بھجوادیتے

ہیں ۔ یہ طریقہ غلط ہے ہر مہینے کا اکٹھا پلندا بھجوا دیتے ہیں ۔ ہر مہینہ کی رپورٹ مشنری انچارج کو اکٹھی آجائے۔بے شک آپ direct بھیجنا چاہیں تو بھیج دیں لیکن ہر مہینہ آنی چاہئے ۔ ‘‘

(2011ء)

  • جہاں جہاں پاکستانی یا مرکزی مبلغین ہیں ، وہاں لائبریریز کا قیام ہو ۔ روحانی خزائن ، ملفوظات ، تفسیر کبیر ، فضل عمر فاؤنڈیشن کی شائع کردہ کتب ، کتب شائع کردہ طاہر فاؤنڈیشن اور کتب شائع کردہ نور فاؤنڈیشن کے پورے سیٹ ہونے چاہئیں ۔ نظارت اشاعت کی شائع کردہ بخاری بھی ۔ روحانی خزائن کے سیٹ میں کتب نئی add ہو چکی ہیں ۔ ان سب کے نئے سیٹ منگوائیں۔
  • براہین احمدیہ حصہ اول و دوم انگریزی ترجمہ شائع ہو گیا ہے ۔ جہاں انگریزی ترجمہ شائع کیا گیا ہے جہاں انگریزی بولنے یا پڑھنے والے ہیں ان کو اپنی لائبریریوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لئے بھی order دینے چاہئیں ۔ اس کی زیادہ سے زیادہ فروخت کرنی چاہئے ۔
  • تفسیر کبیر (عربی ) مکمل ہو چکی ہے ۔عربی بولنے والے North America کے ممالک کی لائبریروں میں موجود ہونی چاہئے ۔ اسی طرح حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی تمام اردو کتب عربی میں Translate ہو چکی ہیں وہ وہاں منگوا کر رکھیں ۔

’’مثلا نائیجیریا میں اس کے علاوہ عربی ڈیسک سے لٹریچر کا پتہ کریں ۔ا سی طرح فرنچ ملکوں میں فرنچ لٹریچر موجود ہونا چاہئے ۔‘‘

  • سٹاک کی رپورٹس بھی صحیح طرح نہیں آتیں ۔ ہر تیسرے چوتھے مہینے اچھی طرح جائزہ لیا کریں کہ مشنز میں Stock میں کتنا لٹریچر موجود ہے اور کتنی دیر سے پڑا ہے ۔ اگر قیمتی لٹریچر ہے اور عرصہ دراز ہو گیا ہے تو مرکز سے اجازت لے کر اس کو قیمت کم کر کے Nominal قیمت پر نکالنے کی کوشش کریں ۔ مثلا حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی کتاب Revelation ,Rationality , knowledge and Truthمرکز سے خود بھی ریجنل مشنز سے چیک کرتے رہا کریں کہ کتنا سٹاک دیا تھا اور کتنا تقسیم ہوا ہے ۔ باقی لوکل لٹریچر کا بھی جائزہ لیتے رہا کریں ایک مشن میں bulk میں پڑ ا ہوتا ہے اور دوسری جگہ اس کی demand ہوتی ہے ۔ اگر information ہو تو وہیں سے transfer ہو سکتا ہے ۔

(2012ء)

  • اپنے سارے مشنز جہاں لائبریریاں ہیں ان کی تفصیل وکالت اشاعت لندن کو بھجوائیں کہ ہمارے ہاں اتنی لائبریریز ہیں ۔ وہ پھر خود چیک کر کے آپ کو کتابیں بھیج دیں گے ۔ بجائے اس کے کہ یہ آپ کو لسٹ بھجوائیں اور پھرآپ چیک کریں ۔آپ خو د ہی اپنی لائبریرز کی کتب کی لسٹ بھجوادیں ۔
  • چاہے کتب جرمن زبان میں ہوں ، انگلش ، عربی یا اردو میں ہوں یا فرنچ میں ۔ جس زبان میں بھی جماعت کا لٹریچر موجود ہے ، وہ آپ کی لائبریروں میں ہونا چاہئے ۔
  • لائبریریاں بنانی ہیں تو نوٹ کر لیں صرف اردو کتب ہی نہیں رکھنی بلکہ ہر کتاب رکھنی ہے۔
  • You should also note that in each and every mission where you have central missionaries, there should be one central library. And all the books printed by Jama’at whether in Urdu or English or French or German or Arabic or any of these languages should be available there. The literature you can get from Qadian is only in Urdu. And there are some books which are in Arabic and all other books are being printed here in the UK or in Germany. So you can place order to Germany and Uk or to the Ameer of Germany through Wakalat Ishaat here in the UK to get you all the available literature of Jam’at Ahmadiyya in from of books or small booklets.

 

  • لائبریریاں اگر مشن ہاؤس میں موجود ہوں تو مشن ہاؤس آنے والوں کے لئے اور visitors کے لئے تبلیغ کا ذریعہ بنتی ہیں ۔
  • سواحیلی لٹریچر جماعت کی سواحیلی ویب سائٹ پر ڈال دیں اور جب لوگ آپ کے مشن ہاؤسز کی لائبریروں میں آتے ہیں تو لوگوں کو ویب سائٹ کا پتہ بھی دیں ۔
  • لائبریریز ایسی جگہوں پر ہوں ، جہاں لوگ visit بھی کرتے ہوں تاکہ ان کو پتہ ہو کہ جماعت احمدیہ کے پاس کتنا لٹریچر ہے ۔
  • لائبریریز میں کتب بھی اور چھوٹا لٹریچربھی رکھیں ۔ ہمارے پاس تمام زبانوں میں لٹریچر موجود ہونا چاہئے۔
  • فضل عمر فاؤنڈیشن اور طاہر فاؤنڈیشن کی شائع کردہ کتب کے اپنے ملکوں میں تراجم کے متعلق explore کریں کہ کوئی اچھے مترجمین مل سکتے ہیں ، جو ان کتابوں کو اردو سے وہاں کی زبانوں میں translate کر سکیں۔
  • انگلش بولنے والے ممالک امریکہ ، کینیڈا ، یو – کے یا دوسرے ممالک جائزہ لیں کہ وہاں سے ایسے زبان والے مہیا ہو سکتے ہیں ، جو لٹریچر کو ترجمہ کر سکیں ۔ اس بات کا جائزہ لیں کر بھجوائیں۔
  • کام کو زیادہ وسعت دینے کی ضرورت ہے ۔ بنگلہ میں بھی ترجمہ کی ایک بڑی ٹیم ہو ، جو کتب حضرت مسیح موعود ؑ کا ترجمہ کرے ۔ پھر حضرت مصلح موعود ؓ کی کتب کے ترجمہ کی ضرورت ہے۔
  • عموما یورپ ، امریکہ اور کینیڈا اور دوسرے ممالک جہاں مبلغین ہیں اور مساجد ہیں یا سنٹرز ہیں اگر وہاں مبلغین نہ ہوں تو پانچ وقت نماز کے لئے نہیں کھلتے ۔ وہاں کا stationed مبلغ جب دورے پر ہو تو کسی کو مقرر کر کے جائے کہ تم نے نماز کے وقت سنٹر کھولنا ہے یا مسجد کھولنی ہے۔ یہ نہ ہو کہ مسجد نہ کھلے ۔ مسجد بہر حال کھلنی چاہئے اور پانچ وقت نمازیں ہونی چاہئیں ۔ سوائے اس کے کہ جب یورپ میں بعض extreme ٹائم ہو جاتے ہیں اور دن کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے ظہر و عصر جمع ہوتی ہے یا دن کے لمبے ہونے کی وجہ سے مغرب اور عشا جمع ہوتی ہے ۔
  • اسی طرح جب آپ (مبلغین – ناقل)وہاں موجود ہوں تو قرآن کریم کی کلاسز باقاعدہ ہونی چاہئیں ۔ بچوں کو قاعدہ پڑھانے کی کلاس کا باقاعدہ انتظام کریں ۔
  • خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ سے رابطہ کر کے ان کے لئے کلاسز arrange کریں ۔ اگر بعض مرکزی مبلغین جن کا بڑا Area ہے وہ اگر دورے پر ہیں تو استاد train کر کے جائیں ، جو وہاں مستقل کلاسیں لیں ۔ بہت سی جگہوں پر یورپ اور یو کے وغیرہ میں غیر احمدی مولویوں سے قرآن پڑھ رہے ہیں ۔ اس لئے کلاسیں شروع ہونی چاہئیں ۔ میں نے ذیلی تنظیموں کو بھی کہا ہے کہ وہ کلاسیں شروع کریں لیکن مرکزی طور آپ (مبلغین ناقل) بھی کریں اور ذیلی تنظیموں کی مدد کریں ۔ یو – کے میں دو تین مشنز ایسے ہیں جو باقاعدہ کلاسیں لے رہے ہیں ۔ باقی مربیان کو بھی لینی چاہئیں ۔
  • مشنریز رپورٹ دیتے ہوئے درس قرآن کو قرآن کلاس میں شامل کر لیتے ہیں۔ میرا مقصد یہ تھا کہ بچوں اور نوجوانوں کو پہلے ناظرہ اور پھر ترجمہ پڑھائیں ۔ بچوں کوقاعدہ اور پھر قرآن کریم پڑھائیں ۔ اس کے علاوہ استاد تیار کریں تاکہ جب آپ دورہ پر ہوں تو وہ آپ کے پیچھے ان کلاسوں کو regular لیتے رہیں ۔ صرف درس دے کر رپورٹ میں لکھ دینا کہ ہم قرآن کلاس لیتے ہیں وہ توہ میرا مقصد ہی نہیں تھا ۔ وہ کام تو regularہو ہی رہا ہے ۔
  • کلاسز لینے سے ایک تو یہ ہے کہ جماعتیں قائم ہوں گی ۔ اور دوسری یہ ہے کہ بچے بھی اور بڑے بھی مسجد سے attach ہو جاتے ہیں ۔ اس لئے یہ کوشش کریں ۔
  • نو مبائعین سے رابطہ کے حوالہ سے نائیجریا کا اس سال کام نمایاں ہے ، باقی ممالک بھی اسی طرح رابطے کریں ۔
  • وقف جدید یا تحریک جدید کے چندہ میں ہر ایک کو شامل کریں ۔ کم از کم پچاس فیصد نو مبائعین کو اس میں شامل کریں ۔ افریقن ممالک میں approach زیادہ مشکل ہے لیکن یورپ اور developed ملکوں کو تو سو فیصد شامل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔چندوں میں شامل کریں گے تو آہستہ آہستہ ان کا انشاء اللہ جماعت سے تعلق بڑھے گا ۔ ایمان میں بھی ترقی ہو گی اور تقوی میں بھی ۔
  • یہ نہیں ہونا چاہئے کہ غلط قسم کی information مجھے دیں کہ اتنے شامل ہو گئے ہیں اور کسی امیر آدمی سے کہا کہ تم پانچ سو یا ہزار آدمی کا چندہ دے دو ۔ مجھے چاہئے کہ خواہ کوئی بچہ بھی شامل کیا جا رہا ہے ، آپ نے اس کانام لکھنا ہے چاہے ووہ ایک CD یا ایک Naira دے یا ایک Dalasi دے ۔
  • World Crisis and Pathway to Peace جو شائع ہو چکی ہے،اس کو تقسیم کریں۔ اس کے علاوہ میں نے لائف آف محمد ؐ کا بھی کہا تھا ، جو حضرت مصلح موعودؓ کے دیباچہ تفسیر القرآن کا حصہ ہے ۔
  • اسی طرح حضرت مصلح موعودؓ کی کتاب فضل عمر فاؤنڈیشن نے شائع کی ہے ، جس میں حضور کے تین لیکچرز ہیں ۔ ایک ’’دنیا کا محسن ‘‘دوسرا’’رحمۃ للعالمین‘‘ اور تیسرا’’ اسوہ کامل‘‘ ہے ۔ کوشش کریں کہ اس کا بھی انگریزی ترجمہ ہو جائے ۔ ان لیکچرز کا انداز دنیا کو attract کرنے والا ہے ۔ اسی طرح فرنچ ڈیسک اس کے فرنچ ترجمہ کی کوشش کرے اور جرمنی والے جرمن ترجمہ کرنے کی کوشش کریں ۔
  • سپین میں کرم الٰہی صاحب ظفر کا پوتا وقف نو ہے اور اس کی زبان بھی اچھی ہے ۔ ترجمہ بھی اچھا کرتا ہے انگلش سے سپینش میں بہت اچھا کر لیتا ہے ۔ ذرا جائزہ لے کر دیکھیں اور بتائیں کہ میرا خیال ہے کہ سپینش ڈیسک مستقل قائم کیا جائے ۔ یہاں بہتر ہو گا یا سپین میں رکھ کر ان کو بہتر ہوگا ؟ یا امریکہ میں قائم کر کے ؟ بہرحال آپس میں Connect بھی کیا جا سکتا ہے ۔ اب تو انٹرنیٹ، کمپیوٹر کے ذریعہ بڑی آسانی سے ہو سکتا ہے۔

(2013ء)

  • سب ممالک اپنی لائبریریوں میں عربی کتب بھی رکھیں ۔ خصوصا جن جماعتوں میں عرب ہیں، وہاں تمام عربی کتب ہونی چاہئیں۔ ایک الگ عربی سیکشن بنائیں ، جہاں صرف عربی کتب ہوں ۔
  • سارے مشنز کو عربی کتب کی فہرست بھجوائی جائے اور سارے مشنز اس فہرست کے مطابق کتب منگوائیں ۔
  • صرف نئی بیعتیں کرنے والوں سے ہی رابطہ نہیں رکھنا بلکہ ان نومبائعین سے رابطہ بحال کرنا ہے ، جنہوں نے بیعتیں کی تھیں اور کسی وجہ سے ان سے رابطہ کٹ گیا تھا ۔ اس حوالہ سے باقاعدہ کوشش ہونی چاہئے ۔
  • یہ عادت ڈالیں کہ نو مبائعین تحریک جدید ، وقف جدید یا کسی نہ کسی چندہ میں شامل ہوں ۔ چاہے وہ ایک فرانک دیں ۔
  • نو مبائعین چندہ دہندگان کی تعداد صرف گھانا نہیں بلکہ ہر جگہ بڑھانی ہے۔
  • تمام واقفین نو جو کسی بھی پروفیشن ، میدا ن میں جار ہے ہیں ، ان سے رابطہ کریں ، پوچھیں وقف میں رہنا ہے یا نہیں ؟ وقف کرنا ہے تو بتائیں تاکہ ہمیں پتا ہو کہ کہاں کہاں لگانا ہے ۔
  • فجر کی نماز کے بعد کم از کم قرآن شریف کا درس ہونا چاہئے ۔
  • لٹریچر کا نکاس نہیں ہوتا ، سال ہا سال پڑا رہتا ہے ، اس کو بھی جلدی نکالنے کی کوشش کریں۔ یہ صرف ایک ملک کی بات نہیں بلکہ دنیا میں ہر جگہ لٹریچر کے نکاس کا انتظام کریں۔
  • ٹول فری کال سسٹم کے متعلق فرمایا :
  • باقی سارے ممالک بھی اپنے اپنے ہاں اس کا جائزہ لیں ۔

’’انڈیا میں تو ٹول فری کال کا سسٹم ہے یعنی کال کرنے والے کو پیسے نہیں پڑتے۔ اس کا باقی ملکوں میں بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے ۔ اس کو بھی اپنے اپنے ملکوں میں explore کریں ۔ اس کے لئے باقاعدہ ٹیم ہو ۔ قادیان والوں نے باقاعدہ ایک ٹیم بنائی ہوئی ہے ، جو چوبیس گھنٹے available رہتی ہے ۔ مختلف شفٹوں میں بیٹھتے ہیں ۔‘‘

  • یہ ہدایات جب مشنوں کو پہنچیں گی تو اس پر عمل بھی کریں تا کام میں تھوڑی سی تیزی پیدا ہو۔ آئندہ سال جو بھی آئے تیاری کر کے آئے تاکہ ان ہدایات کے مطابق جواب دے سکے۔

(2014ء)

عمومی ہدایات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

برائے مبلغین کرام فرمودہ  مبلغین   میٹنگ 2015 ء برطانیہ

تبلیغ کے لیے مختلف ذرائع  کااستعمال

  • یہ ضروری نہیں کہ ہم صرف لیف لیٹس کے ذریعہ ہی پیغام پہنچائیں۔ہم نے ملک کے ہر شہری تک یا کم از کم ملک کی اکثریت تک احمدیت کا پیغام پہنچانا ہے۔اگر پیغام کا ایک حصہ پہنچ جائے تو پھر ہم نے اگلا پیغام پہنچانا ہے۔اس کے لیے آپ میڈیا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
  • ریڈیو ،ٹی وی چینلز پر access کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔آپ کے تعلقات ہونے چاہیئں۔آپ کے تعلقات اچھے ہوں،پبلک ریلیشن اچھی ہو تو سب کچھ ہو سکتا ہے۔
  • اشاعت کا ایک علیحدہ شعبہ بنائیں جو ریڈیو اسٹیشنز اور ٹی وی اسٹیشنز تک access کرنے والا ہو اور ان سے تعلقات بہتر کرنے والا ہو۔
  • ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعہ ان لوگوں تک پیغام پہنچائیں جہاں آپ لوگ لیف لیٹ نہیں لے کر جا سکتے ۔ لیفلیٹ بعض دفعہ لوگ لے لیتے ہیں،جیب میں بھی ڈال دیتے ہیں،اور پھر گھر جا کر رکھ دیتے ہیں یا dustbin میں ڈال دیتے ہیں۔تو جن ملکوں میں ہماری ریڈیو پروگرام تک accessہے اور کر سکتے ہیں اور ٹی وی پروگرام کر سکتے ہیں وہاں یہی کوشش زیادہ کرنی چاہیئے۔میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ صرف لیف لیٹس  تک محدود ہو جائیں۔میں نے یہ بھی کہا تھا کہ نئے نئے راستے explore کریں کہ ہم دنیا تک کس طرح پہنچ سکتے ہیں۔تو یہ افریقہ کے لیے ریڈیو اور ٹیلی وژن،اخبار زیادہ بہتر ذریعے ہیں۔کیونکہ افریقہ میں یہ اتنا مہنگا نہیں ہے۔جتنا بھی مہنگا ہو  feasible   ہے۔یورپ وغیرہ میں تو بعض دفعہ زیادہ مہنگے ہو جاتے ہیں۔
  • جو پڑھا لکھا طبقہ ہے سیاستدان ہیں،سکول کے پروفیسر ہیں، ٹیچر ہیں journalists ہیں میڈیا ہے ان تک لٹریچر پہنچانے کا کوئی خاص پروگرام ہونا چاہیئے۔
  • حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کتاب پاتھ وے ٹو پیس کے فرنچ ترجمہ کی تقسیم  کے حوالہ سے فرمایا:  یہ تو ہزاروں میں تقسیم کرنی چاہیے۔سارے ممبرز آف پارلیمنٹ کو دیں۔ہر ایک سے تعلقات بنائیں۔بڑے بڑے اخبار کے جرنلسٹ ،ٹی وی  اور ریڈیو کمپنیوں کےڈائریکٹر ہیں ان کو دیں۔ان کے دوسرے سٹاف کو جو پڑھا لکھا ہےان کو دیں۔یونیورسٹی میں پروفیسروں کو دیں۔تو یہ کم از کم پڑھے لکھے طبقے تک پہنچا دیں تاکہ یہ اپنے حلقہ احباب میں جو باتیں کریں تو ان کو احمدیت کا پتا  ہو۔
  • لیف لیٹس اور دیگر لٹریچر کی تقسیم کا کام ہر مشنری کے ذمّہ لگانا چاہیے۔
  • جو پریس کے لوگ ہیں،جو جرنلسٹ ہیں اور پڑھے لکھے لوگ ہیں ان تک خاص پروگرام بنا کر پیغام پہنچائیں۔ان لوگوں تک توآپ کا پیغام صحیح طرح پہنچنا چاہیے۔ جو مختلف خبروں کی ایجنسیاں ہیں،ان کے ایڈیٹرز ہیں یا ایڈیٹوریل بورڈ کے جرنلسٹ ہیں،ان تک اپنی کتابیں ’لائف آف محمد‘ اور ’پاتھ وے تو پیس‘ تو پہنچائیں۔ان کو کم از کم پتہ  تو لگے۔ پھر چھوٹے براؤشرز ہیں وہ پہنچائیں۔ان تک تو آپ یہ ارام سے پہنچا سکتے ہیں۔پھر جب آپ کا ان سے تعارف ہوجائے گا،تو اس کے ذریعہ سے آپ جو پروگرام بھی کریں گے۔تو میرا خیال ہے بہتر طور پر اس ملک میں دیکھا جا سکتا ہے۔اور آپ کا تعارف بہتر ہو سکتا ہے۔
  • آج سے چار پانچ سال پہلے لیف لیٹس کے ذریعہ انفرادی طور لوگوں کو پیغام دینے کا ایک طریقہ  شروع کیا گیا۔ وہاس وقت ایک راستہ نظر آیا تھا۔لیکن اس کے بعد مزید راستے کھلے ہیں ،جومزید راستے  کھلتے ہیں ان پر بھی توجہ دینی چاہیے۔اور بڑی تیزی سے راستے کھل رہے ہیں۔جس سپیڈپر ہم جا رہے ہیں اس سے تو ہم کم از کم پچاس سال میں ملک میں صرف احمدیت کا تعارف کروا سکتے ہیں۔لیکن یہ طریقےاور راستے اور وسائل جو اللہ تعالیٰ کھول رہا ہے ان کے ذریعے ہم بڑی جلدی پہنچ سکتے ہیں۔انشاء اللہ !  اس لئے plan کریں ۔ ٹھیک ہے لیف لیٹس ایک اچھا کام ہے لیکن یہ دیکھیں کہ کس کس تک ہم لیف لیٹس پہنچائیں جہاں ہمیں مزید پیغام پھیلانے کے راستے کھلیں۔لیف لیٹس کا شروع میں ایک خیال تھا۔مزید راستے کھولنے کا ایک راستہ تھا۔ اب اس کے ذریعہ سے مزید رستے  کھل رہے ہیں۔اب ان کو بھی استعمال کریں اور فلائز کس طبقے تک پہنچانے ہیں یہ بھی دیکھیں۔
  • لوگ اپنے اپنے blogs میں یا  websites پر اگر مخالفت میں لکھیں تو آپ وہاں اپنی بھر مار کر دیں۔ اس طرح ایک نیا ذریعہ کھل جائے گا۔جہاں مخالفت میں کہیں کچھ بھی لکھا جا تا ہے وہاں اپنی ایک ٹیم بنائیں جو websites پر جوابات کی bombardment کر دے۔ایک کے بعد دوسرا جواب سے۔اور آپ  کی تعداد اتنی زیادہ ہو جائے کہ ان کے اپنے لوگ  جو ان کی favor  میں  لکھنے والے ہیں  وہ کم ہو جائیں اور آپ کا اصل جواب اس پر حاوی ہو جائے۔بعض جگہ یہ طریقہ آزمایا گیا تو لوگوں کا اچھا response  شروع ہو گیا یا جب ہمارے طرف سے اتنے زیادہ جواب جانے شروع ہو گئے تو بعض نے تو اپنی websites  ہی بند کر دیں۔اس لیے اس طریقے کا بھی جائزہ لیکر دیکھیں۔کام کرنے کی کوشش کریں۔

لائبریریز کا قیام:

  • حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ جس طرح مزید کتابیں شائع ہوتی ہیں اور ان کی updated فہرست تیار ہوتی  ہے اس کے مطابق اپنی لائبریریز کو  update  کریں۔

 

نومبائعین سے رابطہ اور انہیں نظام کا حصہ بنانا:

  • جن علاقوں میں نومبائعین سے رابطہ بحال ہوتا ہےان سے مستقل رابطہ بحال رکھنےکا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ آپ وہاں مسجد بنا دیں۔اس حوالہ سے بھی پلاننگ کریں۔
  • نومبائعین کو مالی نظام میں جب تک شامل نہیں کریں گے یہ آپ کے صحیح نظام میں پروئے نہیں جا سکتے۔اس لئے تمام نومبائعین سے چاہے وہ pesewa  ہے یا cent  ہے ،  وہ  pence ہے یاجو بھی کسی ملک کا سکہ ہے وہ لیں۔کوئی جتنا بھی کم سے کم دےسکتا ہے اس سے لےلیں لیکن ہر ایک کو مالی نظام کی اہمیت ضرور پتا  ہونی چاہئے۔ہرایک کو اس میں شامل کریں ۔ آہستہ آہستہ ان کو عادت پڑ جائے گی۔ اور تب ہی رابطے مضبوط ہوں گے۔ایک تو وہاں ساتھ ساتھ مساجد بنائیں اور اس کے لئے وسیع پروگرام بننا چاہئے اور دوسرے ہرایک کو مالی نظام میں شامل ہونا چاہئے۔

واقفین نو:

  • واقفین نو کی ایک بڑی تعداد اب بڑی ہو گئی ہے یا انہوں نے اپنی پڑھائی مکمل کر لی ہے۔آپ ان سے بھی فائدہ اُٹھائیں۔
  • واقفین نو کی تربیت کے لیے بہت ضروری ہے ان کا جو syllabus بنا ہوا ہے وہ ان کو پڑھائیں اور اس کا باقائدہ امتحان ہو نا چاہیے۔بعض جگہوں پر تو ہوتا ہے لیکن بعض جگہ نہیں ہوتا اور جہاں ہو بھی رہا ہے وہاں پچاس فیصد سے زیادہ شامل نہیں ہوتے۔اس کو مزید زیادہ بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

 

درس القرآن:

  • ہر جگہ ،ہر مشن ہاؤس میں تفسیر کبیر سے صبح فجر کی نماز پر درس ضرور ہونا چاہیے۔تفسیر  کبیر کے اکثر حصوں کا  بہت سارا ترجمہ تو آپ کو Five Volume Commentary میں مل جاتا ہے۔جو زائد کرنے والا ہے وہ کر کے سارے مشنریز کو دے دیں۔اور جہاں مشنریز نہیں ہیں اور صدارتیں ہیں  وہاں صدران کو دیں۔اردو   اور انگلش پانچ پانچ چھ چھ منٹ کرنا ہوتا ہے ایسے کوئی مسئلہ نہیں ہےکہ یہ کہہ دیا جائے کہ یہ نہیں ہو سکتا ۔

سیکیورٹی انتظامات:

  • ہر مشن میں ہر جگہ سیکیورٹی کے انتظام کو مزید بہتر کریں۔اور عمومی طور پر دنیا میں ہر جگہ ہی مخالفت ہے۔پاکستانی مولوی جا رہے ہیں۔مثلاً جو ابھی انہوں نے بتا یا تھا کہ ایکیوٹوریل گنی میں بھی دو پاکستانی مولوی پہنچ گئے۔اب اس طرح کی جگہ پر بھی جا کر شر پسند شر پھیلاتے ہیں۔اس لئے صحیح طرح انتظامات ہونے چاہیئں۔اور ہر شہر میں جو وہاں کے پولیس آفیسر اور میئر وغیرہ ہیں یا دوسرے بڑے لوگ ہیں ان سے اچھے تعلقات بھی ہونے چاہیئں۔


عمومی ہدایات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ  بنصرہ العزیز

برائے مبلغین کرام و امراء جماعت ہائے احمدیہ  بر اعظم افریقہ

(فرمودہ دوران اجلاس ہائے مبلغین  منعقدہ  بر موقع جلسہ سالانہ برطانیہ 2007ءتا 2014ء )

  • ’’جوبلی سال کے حوالہ سے اگر افریقہ،انڈونیشا اپنے ملک میں خاص کام مثلاً مسجد، سکول، کلینک وغیرہ کھولنا چاہتے ہیں تو  feasibility رپورٹ بھیجیں۔3 تا4 ماہ کے اندر بھیجیں۔یہ بجٹ کے علاوہ ہو گی۔ ‘‘

(2008ء)

  • لیف لیٹس کی تقسیم کے  متعلق فرمایا:

’’مجھے کم از کم تعداد بتانی ہے تو ایک لاکھ بتایا کریں۔ہزاروں والی بات نہیں رہی۔آپ کتنے سال اور لیں گے‘‘۔

  • ’’مساجد اور سنٹرز  کی حفاظت کی ذمہ داری کی طرف  بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔افریقہ میں باوجود تعلقات اچھے ہونے کے مساجد کی سکیورٹی کا کچھ نہ کچھ انتظام  ہونا چاہیے۔ ‘‘

(2010ء)

  • ’’غانا وغیرہ میں افریقہ کے ملکوں میں کوئی امکان ہے کہ ایسےsymposiums کریں ،جن میں لوگ آجائیں۔ایسی جگہ، venueایسا ہو،جہاں پڑھے لکھے لوگ آ جائیں۔بعض اوقات ہوٹل وغیرہ میں لوگ آجاتے ہیں۔سال میں ایک آدھ ہونا چاہیے۔جس طرح ہم  یہاں یوکے میں کرتے ہیں۔پیشوا یان ِ مذاہب ہو یا peace  نام رکھ لیں یا مذہب کی ضرورت کے نام سے کر لیں۔‘‘
  • ’’افریقہ کے متعلق فکر والی بات یہ ہے کہ سارے نو مبائعین مالی نظام میں شامل نہیں ہوتے۔اگر گزشتہ دس

سال کی بیعتوں کا تیس فیصد بھی شامل کر لیں تو یہ تعداد کافی بڑھ سکتی ہے۔چاہے وقف جدید یا تحریک جدید یا مالینظام کی کسی مد میں شامل کریں‘‘۔

(2012ء)

  • احتیاطی تقاضے بہرحال پورے رکھیں۔دشمنی ہر جگہ بڑھ رہی ہے۔ افریقہ میں بھی مخالفت بہت بڑھ گئی ہے۔ عرب ملکوں سے بھی لوگ افریقہ آتے ہیں۔ یہ تو اللہ کا فضل ہے کہ ابھی تک نو مبائعین مضبوطی سے قائم ہیں۔دعاؤں اور صدقات اور احتیاط پر زور دیں‘‘۔
  • ’’World crisis and the path way to peace کو خاص طور پر یو۔کے  میں ،جرمنی میں،امریکہ میں اور کینڈا میں ،فرانس میں اور افریقی ممالک میں موجود مختلف ممالک کی ایمبیسیوں کو بھجوائیں۔‘‘

(2013ء)

  • ’’افریقن ممالک میں خاص طور پر اپنی مقامی زبانوں میں کتب کے تراجم کے لئے واقفین نو میں سے ٹیمیں تیار کریں۔‘‘

(2014ء)

عمومی ہدایات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

برائے مبلغین  کرام و امراء جماعت ہائے احمدیہ براعظم یورپ

(فرمودہ دوران اجلاس ہائے مبلغین  منعقدہ برموقع جلسہ سالانہ برطانیہ 2007ء تا 2014ء)

  • ’’اپنے سنٹرز اور مساجد کی حفاظت اور سکیورٹی کا پورا انتظام کریں۔کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے ۔ہر جگہ آپ کے کیمرے لگے ہونے چاہییں اور مانیٹر ہونے چاہئیں۔یورپ اور امریکہ وغیرہ میں ہر جگہ ۔انڈیا میں جو بڑے مشن ہیں ان کو بھی سارا مانیٹر ہونا چاہیے۔ دہلی وغیر ہ میں اور ہر جگہ کیمرے ہونے چاہئیں۔ حیدرآباد میں مخالفت کافی ہے، وہاں بھی لگوائیں۔‘‘

(2009ء)

  • ’’اپنے Centre اور اپنی مسجد کی حفاظت اور سکیورٹی کا پورا انتظام ہونا چاہیے۔ یورپ امریکہ وغیرہ میں ہر جگہ ،اسی طرح انڈیا میں جو بڑے مشن ہیں ،ان کو سارا  monitor کریں۔دہلی وغیرہ اور  ہر جگہ کیمرے ہونے چاہئیں۔حیدر آباد میں بھی لگوائیں۔‘‘

(2011ء)

  • لائبریریوں کےحوالہ سے فرمایا:

’’ یورپ کے مشنز اور امریکہ اور کینڈا کو چاہیے کہ خود order کریں اور ساتھ اپنی payment  بھی کیا کریں‘‘

(2012ء)

  • ’’اب یورپ میں نمازیں جمع کرنے کو بہت زیادہ روج دینے لگ گئے ہیں۔ہم یہا ں لند ن میں بھی کوشش کرتے ہیں کہ نمازیں زیادہ جمع نہ ہوں ۔میرا خیال ہے زیادہ سے زیادہ دو مہینے ظہروعصر جمع ہوتی ہوں گی اور قریبا دو مہینے ہی مغرب و عشاء۔‘‘
  • ’’خاص طور پر ساتھ امریکہ ،یورپ اور امریکہ ،کینڈا میں مساجد اور مشن ہاؤسز کی سکیورٹی  کا  proper  انتظام ہونا چاہیے‘‘

(2013ء)

 

To Download PDF Click Here