خطبہ عید الفطر 2016ء

أَشْھَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ                             وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ O بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ O اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ O الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ O مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ O اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ O اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ O صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ۵ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ O

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:

وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا O (الدّھر:9)

ترجمہ:اور اُس(خدا)کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں۔

ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ و اٰلہِ وسلم فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ اُس وقت تک کسی بندے کی مدد فرماتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد پر کمر بستہ رہتا ہے۔

(مسند احمد بن حنبل)

ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ و اٰلہِ وسلم نے فرمایا:مجھے اپنے کمزوروں میں تلاش کرو کیونکہ ضرور تم اپنے کمزوروں اور غریبوں کی وجہ سے یہ رزق دئیے جاتے ہو اور مدد پاتے ہو۔

(ترمذی کتاب الجہاد باب ما جاء فی الا ستفتاح)

حَضْرَتْ اَقْدَسْ مَسِیْح مَوْعُوْد (آپ پر سلامتی ہو)فرماتے ہیں:
دراصل خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرنا بہت ہی بڑی بات ہے اور خدا تعالیٰ اِس کو بہت پسند کرتا ہے۔اِس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ وہ اُس سے اپنی ہمدردی ظاہر کرتا ہے۔عام طور پر دنیا میں بھی ایساہی ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کا خادم کسی اُس کے دوست کے پاس جاوے اور وہ شخص اُس کی خبر بھی نہ لے تو کیا وہ آقا جس کا کہ وہ خادم ہے اُس اپنے دوست سے خوش ہوگا؟کبھی نہیں؛ حالانکہ اُس کو تو کوئی تکلیف اس نے نہیں دی، مگر نہیں۔اس نوکر کی خدمت اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک گویا مالک کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔

(م:4/215.216)

فرمایا: حقیقی نیکی کرنے والوں کی یہ خصلت ہے کہ وہ محض خدا کی محبت کے لئے وہ کھانے جو آپ پسند کرتے ہیں مسکینوں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تم پر کوئی احسان نہیں کرتے بلکہ یہ کام صرف اس بات کے لئے کرتے ہیں کہ خدا ہم سے راضی ہو اور اُس کے منہ کے لئے یہ خدمت ہے۔

(10/357)

نیز فرمایا: تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہویاد رکھو کہ تم ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو، ہمدردی کرو اور بلا تمیز ہر ایک سے نیکی کرو کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے ۔ وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا (الدّھر:9)

(م:4/219)

آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:انسان کا یہ قاعدہ ہے کہ اُ س کی نیکی خالصًا لِلّٰہ ہو تی ہے اور اُس کے دل میں یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ اُس کے واسطے دعا کی جاوے یا اُس کا شکریہ ادا کیا جاوے ۔ نیکی محض اُس جوش کے تقاضا سے کرتا ہے جو ہمدردی بنی نوع انسان کے واسطے اُس کے دل میں رکھا گیا ہے ۔

(م:5/664)

حَضْرَت خَلِیْفَۃُالْمَسِیْحِ الثَّانِی نَوَّرَ اللّٰہُ مَرْقَدَہٗفرماتے ہیں :
ہم کوشش کرتے ہیں کہ غرباء کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ہم اُن کے لئے کپڑے مہیا کرتے ہیں ، اُن کے لئے غلّہ کا انتظام کرتے ہیں،اُن کی روپیہ سے امداد کرتے ہیں،اُن کو طبّی امداد بہم پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور حتی الامکان اُن کی تکالیف کو زیادہ سے زیادہ کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

(ت۔ک :8/569)

فرمایا:اِسی طرح میں عورتوں ،مردوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ صدقہ اور خیرات اور دوسرے طریقوں سے غریبوں ،محتاجوں کی مدد کرنے کی کوشش کریں۔میرے نزدیک وہ عورت یا مرد مسلمان نہیں جس کے دل میں کسی غریب کو دیکھ کر درد نہیں ہوتا اور مصیبت زدہ کو دیکھ کر دُکھ نہیں محسوس ہوتا۔جس شخص کی نظر اپنے ہی دُکھ درد تک محدود ہو وہ مومن کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔

(الف۔ن:5/97.98)

ہمارے پیارے اِمام سَیِّدُناحَضْرَت خَلِیْفَۃُالْمَسِیْحِ الْخَامِسْ اَیَّدَہُ اللّٰہُ تَعَالیٰ بِنَصْرِہِ الْعَزِیْز فرماتے ہیں :
وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا (الدّھر:9) … اِس کا ایک تو یہ مطلب ہے کہ باوجود اِس کے کہ اُن کو اپنی ضروریات ہوتی ہیں وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے ضرورت مندوں کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں، آپ بھوکے رہتے ہیں اور اُن کو کھلاتے ہیں۔ تھڑدلی کا مظاہر ہ نہیں کرتے کہ جو دے رہے ہیں وہ اُس کو جس کو دیا جارہاہے اُس کی ضرورت بھی پوری نہ کرسکے، اُس کی بھوک بھی نہ مٹاسکے۔بلکہ جس حد تک ممکن ہومدد کرتے ہیں اور یہ سب کچھ نیکی کمانے کے لئے کرتے ہیں،اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کرتے ہیں… اوراِس کا یہ بھی مطلب ہے کہ وہ چیز دیتے ہیں جس کی اُن کو ضرورت ہے یعنی اُس دینے والے کو جس کی ضرورت ہے جس کو وہ خود اپنے لئے پسند کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے اِس حکم کو ہمیشہ ذہن میں رکھتے ہیں کہ اللہ کی خاطر وہی دو جس کو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ یہ نہیں کہ جس طرح بعض لوگ اپنے کسی ضرورت مند بھائی کی مددکرتے ہیں تو احسان جتاکے کررہے ہوتے ہیں۔

(خ۔م۔ر:فرمودہ12ستمبر2003ء)

فرمایا: لوگوں کے حقوق کا خیال اور یہ کہ تم اپنے بھائیوں کی بے چینیوں اور تکلیفوں کو دور کرو اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسی شفقت کاسلوک تم سے کرے گا اورتمہاری بے چینیوں اور تکلیفوں کو دورکرے گا۔ آنحضرت ﷺکا ہم پر یہ احسان ہے۔فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنی مغفرت کی چادر میں تمہیں ڈھانپ لے تو بے چین، تکلیف زدہ اور تنگدستوں کو جس حد تک تم آرام پہنچا سکتے ہو، آرام پہنچائو تو اللہ تعالیٰ تم سے شفقت کا سلوک کرے گا۔

(خ۔م۔ر:فرمودہ12ستمبر2003ء)

نیز فرمایا:عید کے دن ہر احمدی اپنے ماحول میں جائزہ لے اور ضرورت مندوں کا خیال کرے۔یہ عمل خدا کے فضل سے ذاتی اور جماعتی سطح پر ہو رہا ہے لیکن ابھی بہت گنجائش موجود ہے۔یہ کام اچھا کھلانے اور پہنانے تک ہی ختم نہیں کرنا جس طرح عید کے دن اُن کا خیال رکھا جا رہا ہے ان رابطوں کو توڑنا نہیں بلکہ ان پر نظر رکھیں ،خود بھی اُن کا دھیان رکھیں اور نظام کو بھی مطلع کریں۔اُن کو کام پر لگائیں،اُن کی ہمت بندھائیں۔یہ اُن پر جاری احسان ہو گا۔اس طرح کم استطاعت والوں کو اُٹھانے کی کوشش کریں تو ہو سکتا ہے کہ وہ شخص اگلے سال عید پر دوسروں کی مدد کر رہا ہو۔اِس طرح پر معاشی استحکام سے اخلاقی معیار بھی بلند ہوں گے اور پاکیزہ معاشرے کا قیام عمل میں آئے گا۔

(الف۔ف۔ر:3دسمبر2003ء)

اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو حقیقی عید نصیب فرمائے ایسی عید جس سے ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں۔

(آمین)

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ وَ نُؤمِنُ بِہٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْہِ وَ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا مَنْ یَّھْدِہِ اللّٰہُ فَلاَ مُضِلَّ لَہٗ وَمَنْ یُّضْلِلْہُ فَلاَ ھَادِیَ لَہٗ وَنَشْھَدُ اَنْ لاَّاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وََنَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗO

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ عید الفطر7 جولائی 2016 ء بروز جمعرات دوپہر دو بج کر تیس منٹ پر MTA سے براہِ راست نشر ہو گا۔

عِبَادَ اللّٰہِ رَحِمَکُمُ اللّٰہُ إِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَإِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَO اُذْکُرُوا اللّٰہَ یَذْکُرْکُمْ وَادْعُوْہُ یَسْتَجِبْ لَکُمْ وَلَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرO
دعا

Click Here To Download PDF